سندھ ہائیکورٹ کی میر رضا کیس کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل سے متعلق درخواست تحریری فیصلے کے ساتھ نمٹا دی ہے جب کہ عدالت نے میر رضا کیس کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے گزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا۔ 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ 2 رکنی بینچ کے رکن جسٹس محمد جعفر رضا کی جانب سے تحریر کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق عدالت نے میر رضا کیس کی تحقیقات کو بالکل غیر جانب دارانہ، منصفانہ اور جلد سے جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کیس کے تفتیشی افسر (آئی او) نے عدالت کو تحقیقات کی جلد تکمیل کے لیے ہر ممکن کوششوں کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تفتیشی افسر قانون کے مطابق تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا اور ضرورت پڑنے پر دیگر قانون نافذ کرنے والے یا تحقیقاتی اداروں سے بھی معاونت حاصل کی جائے گی۔

سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواست گزار شفاف اور منصفانہ تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانون پسند اور قانونی ذرائع استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ 24 اگست کو میر رضا کے اہل خانہ نے کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔

دوسری طرف میر رضا کیس میں قائم جوڈیشل کمیشن نے 3 ستمبر کے لیے ایس ڈی پی او شارع فیصل ارشد آفریدی اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد بھردے اور عبداللہ بھردے کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے جب کہ کمیشن نے رزاق اور ہیثم کو بھی 3 ستمبر کو 11 بجے کمیشن میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے۔

میر رضا کے آخری سفر کی سی سی ٹی وی فوٹیجز

دوسری جانب کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا کیس سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، میر رضا کے آخری سفر کی اہم سی سی ٹی وی فوٹیجز میں واقعے کے وقت کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق میر رضا کو ایک سفید رنگ کی آلٹو گاڑی میں مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ ان کی گاڑی کے عقب میں سیاہ شیشوں والی ایک سوئفٹ کار بھی مسلسل تعاقب کرتی دکھائی دیتی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا گیا کہ میر رضا نے ایک گیسٹ ہاؤس سے کچھ فاصلے پر اپنی گاڑی روکی اور اتر کر پیدل چلنا شروع کر دیا۔

ریکارڈنگ کے مطابق صبح 4 بج کر 33 منٹ پر میر رضا آلٹو سے اتر کر پیدل روانہ ہوئے، جس کے فوراً بعد سیاہ شیشوں والی سوئفٹ گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر آ کر رکی، اس گاڑی سے 5 افراد باہر نکلے اور گیسٹ ہاؤس کے اندر داخل ہو گئے۔

ادھر تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور حساس اداروں نے سیاہ شیشوں والی گاڑی میں موجود افراد کو شاملِ تفتیش کرتے ہوئے ان سے تفصیلی پوچھ گچھ مکمل کر لی ہے تاہم ذرائع کے مطابق ان افراد سے میر رضا کیس کے حوالے سے اب تک کوئی اہم یا بریک تھرو معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں اور کیس کی مزید پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز گلستانِ جوہر کے قریب ان کی لاش ملی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تھا تاہم اہلخانہ کے اعتراضات، عدالتی حکم پر قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں سامنے آنے والے چوٹوں کے شواہد کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 شامل کی گئی تھی۔

اہلِ خانہ شروع ہی سے میر رضا علی کی موت کو قتل قرار دیتے رہے اور تحقیقات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیے جانے اور پوسٹ مارٹم سے متعلق سوالات سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

فی الوقت کیس میں استعمال ہونے والے اسلحے کی عدم برآمدگی، ضائع ہونے والے ثبوت اور ملوث پولیس اہلکاروں کا تعین تفتیشی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

Related posts